9 Tips Before Receiving Chicks in Winter

0
98

آج ہم بات کریں گے،  پولٹری فارم میں چوزے ڈالنے کے پہلے دن اور سردیوں میں فارمنگ کی ضروری اور اہم باتوں پہ۔ پہلا دن، بہت سارے فارمر پہلے ہی دن بہت ساری غلطیاں کرتے ہیں۔ جو کہ بعد میں جا کر ان کے بڑے نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ دھیان سے پڑھیں،  ہو سکتا ہے مذکورہ غلطیوں میں سے کوئی ایک غلطی آپ بھی کر رہے ہوں۔

جب پہلے دن آپ چوزہ وصول کرتے ہیں ۔ تو یاد رکھیں برادہ، بچھاون کم سے کم ایک انچ ضرور ہو۔ ایک سے ڈیڑھ انچ ہو تو بہت بہتر ہے۔ لیکن ایک انچ سے کم کسی صورت نہ رکھیں۔
سردیوں میں چوزوں کو گرمی کی، درجہ حرارت کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ چوزہ نازک ہوتا ہے اور سردی برداشت نہیں کر سکتا۔ لہذا چوزے کا زمین سے لنک جتنا دور ہو گا۔ اس کیلئے اتنا زیادہ بہتر رہے گا۔

اس کے علاوہ بجلی کی فراہمی 24 گھنٹے ہو۔ چوزہ اندھیرا میں زیادہ مرتا ہے۔ ایک دوسرے پہ آ کر۔ یا خوراک سہی نہ کھا سکنے کی وجہ سے۔
ایک عام پولٹری فارمر سب سے بڑی غلطی جو کرتا ہے۔ وہ یہ ہوتی ہے کہ ایک بار چوزہ آ جاتا ہے۔ اور آپ اسے اخبار کے ٹکڑوں پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے بعد جلدی سے گھر جانے کی کوشش ہوتی ہے۔ اور یہی سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے۔ بہت سے جو نقصان اٹھانے والے پولٹری فارمر ہیں۔ انہوں نے یہ مان لیا ہے کہ وہ رات کو گھر چلے جاتے تھے۔ لیکن پچھتائے کیا ہوت۔

جبکہ اس کے برعکس جو کامیاب پولٹری فارمر ہیں۔ انہوں نے یہ مانا ہے کہ پہلے چار پانچ دن وہ پولٹری فارم پہ ہی سوئے۔ اور اپنا مکمل وقت نوزائیدہ چوزوں کی نگہداشت پہ صرف کیا۔
اگر آپ نے کامیاب ہونا ہے۔ تو چند راتیں خود اپنے پولٹری فارم پہ ہی گزاریں۔ اور چوزوں کو رات کے وقت اکٹھا نہ ہونے دیں۔ جب چوزہ اکٹھا ہونے لگے تو اس سے آپ کو یہ بھی پتہ لگ جائے گا۔ کہ شیڈ کے اندر ہیٹ، درجہ حرارت کم ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے چوزے سردی محسوس کر کے اکٹھے ہو رہے ہیں۔
ایسی صورت میں آپ اس کو گرمی فراہم کرنے کا بندوبست کر سکتے ہیں۔
اب آ جاتے ہیں۔ اخبار سے متعلق ۔ بہت سے لوگ یہ غلطی کرتے ہیں۔ کہ وہ اخبار کی صرف ایک تہہ بچھاتے ہیں  جو کہ بہت غلط ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب چوزہ فیڈ کھاتا ہے۔ اور بیٹ کرتا ہے۔ تو یہ اخبار کی پرت گیلی ہو کر گل جاتی ہے۔ اور چوزے کا زمین سے کنکٹ ہونے لگتا ہے۔ نیچے سے سردی آنے لگتی ہے۔ اور سردی چوزے کیلئے کس حد تک نقصان دہ ہے ۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔

پہلے دن بہت سے لوگوں کو یہ لگتا ہے۔ کہ انہوں نے شیڈ کو مکمل کور کر دیا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ اگر شیڈ 60 فٹ کا ہے۔ اور آپ نے چوزے کو ابھی بیس فٹ میں محدود کیا ہے۔ اور صرف اسی ایریا کو کور کیا ہے۔ باقی شیڈ کو کور نہیں کیا۔ تو آپ کبھی بھی حسب ضرورت ٹمپریچر قائم نہیں رکھ پائیں گے۔ لہذا باقی شیڈ کو بھی کور کریں۔
رہی بات گیسوں کے اخراج کی تو ان کیلئے ہلکا سا گیپ رکھ لیں۔ لیکن ایک دم زیادہ نہ کھولیں ۔ ورنہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آپ کے شیڈ کے ٹمپریچر کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا۔

بہت سے لوگ یہ غلطی کرتے ہیں کہ جب وہ پردے لگاتے ہیں تو کونے اچھی طرح بند نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے ٹھنڈی ہوا اندر آتی رہتی ہے۔ جب ذرا سی بھی ٹھنڈ ہو گی۔ تو چوزے ایک دوسرے کے اوپر چڑھنے لگیں گے  اور ایک دوسرے کے نیچے آ کر مرنے لگیں گے۔

ٹمپریچر 34 ڈگری سینٹی گریڈ کے ارد گرد ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ ٹمپریچر میٹر کو گیس ہیٹر کے قریب لٹکا دیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہاں کا ٹمپریچر تو پورا نظر آتا رہتا ہے۔ لیکن ارد گرد اتنا نہیں ہوتا  جو ہونا چاہیے۔ میٹر کو نیوٹرل جگہ پہ لگائیں۔ تا کہ سہی سے پیمائش ہوتی رہے۔ میٹر کو زمین سے تقریبا 2 فٹ کی بلندی پہ لٹکائیں۔ اور ایک اور یاد رکھنے والی بات ۔ کہ جیسے ہی آپ کے چوزے ابھی آ رہے ہوں۔ تو ۔میٹر کو کچھ دیر زمین پہ رکھ دیں۔ اور دیکھیں کہ کیا زمین خا ٹمپریچر 32 ڈگری تک ہے یا کم ہے۔

کیونکہ اگر ہوا کے ٹمپریچر پہ مطمئن ہو جائیں گے۔ اور زمین ٹھنڈی ہو گی تو چوزے کو آتی ہی سرد شاک لگے گا اور۔ بہت سے لوگ جیسے ہی چوزہ آتا ہے۔ ہیٹر آن کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اور ٹمپریچر کو بحال اس کے کافی دیر بعد کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں پہلے دن کا جو سٹریس آپ چوزے کو دیں گے۔ اس کا نقصان آپ پوری لاٹ میں پورا نہیں کر سکیں گے۔ لہذا چوزہ آنے سے ایک دن پہلے ٹمپریچر بیلینس کریں۔ تاکہ چوزے کو فارم پہ آتے ہی پرسکون ماحول ملے۔

پانی کے ڈبوں کی صفائی نہایت اہم ہے۔ اگر آپ کے پاس ٹیوب ویل ہے۔ تو بہت آسانی ہو گی۔ ورنہ کسی حوض میں پانی اکٹھا کر کے پانی کے ڈبے اس میں ڈبو دیں۔ اور اس میں کلورین کی گولی ڈال دیں۔ اس سے ان ڈبوں میں موجود بیکٹیریا اور جراثیم صاف ہو جائیں گے۔ اگر پچھلے لاٹ میں کوئی وائرس یا جراثیم رہے ہوں گے۔ تو کم سے کم ان ڈرنکر کی وجہ سے وہ جراثیم اس لاٹ میں نہیں آئیں گے۔

سردیوں میں چوزے ڈالنے کے بعد جو سب سے بڑی مشکل ہے ۔ وہ یہ ہے کہ جیسے ہی چوزہ 800 ، 900 گرام کراس کرنے لگتا ہے۔ تو لاتعداد وائرل بیماریاں آ جاتی ہیں۔
ساتویں دن کے بعد فارمر اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ  اب تو بروڈنگ ہو گئی ہے ۔ لہذا مجھے اب ٹمپریچر مینٹین کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔  وہ سب سے بڑی غلطی ہوتی ہے  اور وہیں پہ اس کے چوزے کی قوت مدافعت گرنا شروع ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ سمجھ نہیں کہ فارم میں ہیٹر کتنے لگائیں۔ تو اس کیلئے تقریبا موٹا حساب ایسے ہے۔ کہ اگر آپ کے فارم پر 250 چوزے ہیں۔ تو اس کیلئے ایک ہیٹر لگائیں۔
جب چوزہ 8 سے بیس دن تک کا ہو ۔ تو آپ  ے ہیٹر کی تعداد ڈبل کر دینی ہے۔ کیونکہ آپ جگہ بھی تو ڈبل کر رہے ہیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں۔ کہ ہم بلب لگا رہے ہیں۔ لہذا درجہ حرارت کی ضرورت پوری ہوتی رہے گی۔ لیکن بلب سے آپ اتنی زیادہ گرمی فراہم نہیں کر سکتے جو چوزے کی ضرورت ہے۔
کچھ لوگ پردے کھول دیتے ہیں  کیونکہ شیڈ کے اندر گیس اتنی بن جاتی ہے کہ پردے کھولنا مجبوری بن جاتی ہے۔ اگر پردے کھولنے ہوں، تو ایسا وقت چنیں جب دھوپ آ چکی ہو ، اور ہوا کچھ گرم ہو چکی ہو۔ تا کہ چوزے ایک دم آنے والی ٹھنڈ کی لہر سے محفوظ رہیں۔

ایسا بھی دیکھا گیا ہے۔ کہ بہت سے فارمر سوچتے ہیں ۔ کہ اگر چوزے اکٹھے ہو رہے ہیں تو اس کا سبب صرف سردی ہے۔ لیکن کئی بار بہت زیادہ گیس اکٹھی ہونے سے بھی چوزے بے آرامی محسوس کرتے ہیں۔
رطوبت میں کمی بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ جب آپ ہیٹر جلا کر رکھتے ہیں تو ہوا میں نمی کم ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے چوزے ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہوتے ہیں۔ جب ڈی ہائیڈریشن ہو گی۔ تو چوزے میں گاؤٹ آنے لگے گا۔ لہذا آپ نے ڈی ہائیڈریشن ہونے سے چوزوں کو بچانا ہے۔
اس کا بہترین حل یہ ہے۔ کہ آپ ہیٹر کے اوپر کوئی پانی کا برتن رکھ دیں۔ اس سے بھاپ بنے گی۔ اور ہوا میں نمی کی مقدار بحال رہے گی۔

زیادہ تر بخاری کا اوپری سطح ڈھلوان ہوتا ہے۔ لہذا آپ جب بخاری بنوائیں۔ تو اس کو بولیں کے اوپری سطح ہموار رکھے۔ یا پانی کا برتن نصب کرنے کا انتظام کرے۔ اس کے علاوہ پانی کے برتن کو کوئی سپورٹ دیں۔ تا کہ پانی نیچے فرش پی نہ گرتا رہے۔
پینے کے پانی میں، وٹامن بی کمپلیکس اور لیور ٹانک ڈالتے رہیں۔ لیور ٹانک کا فائدہ یہ ہوتا ہے۔ کہ جب سردی میں گیس زیادہ بنتی ہے۔ تو چوزوں کے لیور پہ اور پھیپھڑوں پہ زیادہ زور پڑتا ہے۔ لہذا یہ ٹانک استعمال کرانے سے چوزے کی قوت مدافعت بحال رہتی ہے۔
تسلی اور سونٹھ کا بہت فائدہ دیکھا گیا ہے۔ آپ تسلی کے سوکھے پتے یا خشک ادرک جسے سونٹھ کہتے ہیں۔ بھی شامل کریں۔

مزید پڑھیں ۔ انڈوں کا چھوٹے پیمانے پہ کاروبار کیسے شروع کریں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here