Importance of Feeding In A Successful Dairy Farm / In Urdu

0
83

ایک کامیاب ڈیری فارم میں جانور ہی اثاثہ ہیں۔ اور جانور ہی آپ کی پروڈکشن فیکٹری ہیں۔ اس کے علاوہ جانور ہی آپ کی کمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ لہذا جب تک جانور صحت مند نہیں ہوں گے۔ آپ کا ڈیری فارمنگ کا بزنس کامیاب نہیں ہو گا۔ دوسری صورت میں منافع کی بجائے نقصان کی شرح بڑھ  جائے گی۔ جانور کی صحت میں جہاں دوسرے بہت سے عوامل ہیں،  وہاں پہ ان دوسرے سب عوام سے زیادہ اہم معاملہ انکی متوازن خوراک ہے۔ مویشی کی نسل کتنی بھی اچھی کیوں نا ہو۔ آپ اس کو جتنی مرضی سہولیات فراہم کر دیں۔ لیکن اگر اس کی خوراک متوازن نہیں ہو گی۔ تو سب بیکار ہے۔ لیکن اگر خوراک متوازن ہو گی، تو آپ کے جانور زیادہ اچھی صحت میں رہیں گے۔ اور دودھ کی زیادہ پیداوار دیں گے۔  آج کے آرٹیکل میں ہم ڈیری فارمنگ میں متوازن خوراک پہ روشنی ڈالیں گے۔

متوازن خوراک/ A Balanced diet. 

بنیادی سوال یہ ہے۔ کہ یہاں متوازن خوراک سے کیا مراد ہے؟ کیا ان کے سامنے گھاس چارے، چوکر کا ڈھیر لگا دینا ہی متوازن خوراک کہلائے گا؟ بالکل نہیں ۔
ایسی خوراک جس میں تمام غذائی اجزاء،  مثلا پانی، لمحیات ،نشاستہ دار اجزا، روغنیات، نمکیات اور حیاتین ایک خاص توازن سے موجود ہوں۔ وہ خوراک ایک متوازن خوراک کہلائے گی۔ 
جانور کو دی جانے والی متوازن خوراک کے فوائد یہ ہیں۔
  • جانور کے وزن میں اضافہ،  بڑھوتری، اور اور اس کے نتیجے میں مجموعی بہتر صحت۔
  • بہتر صحت کی وجہ سے جانور کا بیماریوں سے تحفظ۔
  • جانور کا بروقت گرمی (مشک) میں  آنا
  • جانور کا بروقت حاملہ ہونا
  • صحت مند بچھڑے کی پیدائش 
  • بچھڑے کی بہتر پرورش اور کامیاب نسل کشی 
  • دودھ کی بہتر پیداوار اور اس کے نتیجے میں زیادہ منافع 

جانور کیلئے متوازن خوراک کے ذرائع کیا ہیں؟

پانی کی افادیت۔

ایک بڑے جانور کا جسم 56 سے 81 فیصد تک پانی پہ مشتمل ہوتا ہے۔ جانور کے دودھ میں پانی کی مقدار 85 سے 87 فیصد تک ہوتی ہے۔ جانور جگالی کرتے ہوئے ایک دن میں ، 120 سے 180 لیٹر تک لعاب پیدا کرتے ہے  جو اس کی خوراک کو ہضم کرتا ہے  اور دودھ بناتا ہے۔ 
جانور کو ہر ایک لیٹر دودھ پیدا کرنے کیلئے،  چار لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ 
مجموعی طور پر دودھ دینے والے جانور کو روزانہ 100 سے 120 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈیری فارمرز دن میں 2 سے 3 مرتبہ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے ہیں۔ جس سے ان کی پانی کی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔ لہذا جانوروں کو کھلا رکھتے ہوئے،  چوبیس گھنٹے صاف شفاف اور نارمل ٹمپریچر پہ موجود پانی فراہم کرنا ضروری ہے۔ اس مقصد کیلئے پانی کی حوضیوں کی ضرورت نہایت اہم ہے۔ 
مشاہدے نے یہ ثابت کیا ہے۔ کہ بندھے ہوئے جانور جن کو دن میں 2 سے 3 بار پانی پلایا جاتا ہے۔ ان ہی جانوروں کو کھلا چھوڑ کرز 24 گھنٹے صاف اور تازہ پانی کی فراہمی سے۔ انکی دودھ کی پیداوار میں 2 سے 3 لیٹر تک خا اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس بات سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ جانور کو صاف اور تازہ پانی چوبیس گھنٹے مہیا کرنا کتنا ضروری ہے۔
دودھ دینے والے جانور عموما 30 سے 50 فیصد تک پانی دودھ دوہنے سے ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کے اندر پی لیتے ہیں۔ لہذا یہ انتہائی ضروری ہے۔ کہ ان جانوروں کو دودھ نکالنے کے فورا بعد تازہ پانی پلایا جائے۔ 
اب ہم ذکر کریں گے،  کہ جانور کی زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی غذائی ضروریات کیا ہیں۔

پیدائش سے لے کر 2 ماہ کی عمر تک، بچھڑے کی غذائی ضروریات۔

پیدائش کے ایک سے آدھے گھنٹے کے دوران بچھڑے کو بوہلی پلائیں۔
اس کے شروع کے چار دن ہر 8 گھنٹے بعد بوہلی فراہم کی جائے۔ یعنی دن میں تین مرتبہ۔ 
بچھڑے کو ماں کا دودھ،  بچھڑے کے وزن کے دسویں حصے کے برابر پلائیں۔ مثال کے طور پر اگر بچھڑے کا وزن تیس کلو ہے۔ تو اس کو تین لیٹر دودھ دن میں تین اوقات، ایک ایک لیٹر کر کے پلائیں۔ 
پیدائش کے سات دن بعد بچھڑے کو دودھ کے ساتھ ونڈا اور نمکیات دینا شروع کر دیں۔

دو ماہ بعد کی غذائی ضروریات ۔

ساتویں یا آٹھویں ہفتے، یعنی دو ماہ کی عمر پہ آ کر بچھڑے کا دودھ چھڑوا دیں۔ لیکن پہلے اطمینان کر لیں کہ بچھڑا روزانہ آدھے سے ایک کلو ونڈا کھانا شروع ہو چکا ہے۔ 
اس کی عمر کے تیسرے مہینے پہ اسے سبز چارہ دینا شروع کر دیں۔ جب اس کی عمر ایک سال ہو جائے تو تب سے لے کر بالغ ہونے تک تیس کلو تک سبز چارہ اور دو کلو ونڈا روزانہ دیں۔ دو ماہ سے زائد عمر کے بچھڑوں کو پنجرے سے نکال لیں۔ اور الگ شیڈ میں رکھنا شروع کر دیں۔ لیکن ان کے آرام کیلئے فرش پہ ریت یا پرالی ضرور بچھائیں۔ 

سادہ طریقے کے تحت جانور کی خوراک۔

عام طور پہ جانور کی خوراک کا یہ اصول ذہن میں رکھیں۔ 
جانور کو سبز چارے کی ضرورت اس کے اپنے جسمانی وزن کے دس فیصد کے برابر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پہ اگر جانور کا اندازا وزن پانچ سو کلو گرام ہے، تو اسے لگ بھگ 50 کلو روزانہ چارہ کھانا ہو گا۔ اگر سائلیج موجود ہے۔ تو روزانہ 20 سے 25 کلوگرام تک سائیلیج دیں۔ ونڈا دودھ کی پیداوار کا نصف یعنی ہر تین لیٹر دودھ کی پیداوار پہ ایک سے ڈیڑھ کلوگرام ونڈا دیں۔ منرلز اور نمکیاتی آمیزہ، سو سے دو سو گرام تک خوراک میں لازمی شامل کریں۔ 

حاملہ جانور کے آخری دو ماہ کی غذائی ضروریات۔

یہ تو ہو گئیں عمومی غذائی ضروریات ، جن کا ذکر ہم نے اوپر کیا۔ اب تھوڑا سا خصوصی غذائی ضروریات کی طرف آتے ہیں۔ 
حمل کے آخری دو ماہ جانور کی زندگی میں انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ان دو ماہ میں دی گئی مناسب خوراک ہی بچھڑے کی صحت مند پیدائش، اور جانور کی صحت  و دودھ کی پیداورا میں رول ادا کرتی ہے۔
جانور کو اپنی جسمانی توانائی بحال کرنا ہوتی ہے۔ جو اس نے دودھ دینے کے دورانیے میں اپنے جسم سے خارج کی ہوتی ہے۔ اسی بحال شدہ توانائی کے باعث،  جانور بچہ پیدا کرنے کے بعد دوبارہ دودھ دینے کے قابل ہوتا ہے۔
جب جانور کا آٹھواں مہینہ ہو تو اس کا دودھ دوہنا چھوڑ دیں۔ اور جانور کو ڈیڑھ سے دو کلو ونڈا روزانہ دیں۔  اور اسے اچھی کوالٹی کا سبز چارہ دیں۔ توڑی، یعنی بھوسہ وغیرہ کھلانے سے پرہیز کریں۔ 

دودھ دینے کے دورانیے کے ابتدائی ساٹھ سے ستر دن کی غذائی ضروریات۔

بچہ پیدا کرنے کے بعد جانور کو ابتدائی 8 سے 10 ہفتوں میں زیادہ توانائی اور زیادہ اچھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ بچے کی پیدائش کے باعث اس کی اچھی خاصی توانائی نچڑ چکی ہوتی ہے۔ لہذا اس کی خوراک میں ونڈا شامل کریں۔  چھ سے آٹھ ہفتوں میں جانور اپنے سوئے کے زیادہ دودھ کی پیداوار تک پہنچ جاتا ہے۔ اس لیے نہایت ضروری ہے ۔ کہ جانور کو بچہ دینے کے فورا بعد متوازن خوراک شروع کر دینی چاہیے۔ دودھ دینے کے ان دنوں میں جانور زیادہ اچھی طرح نہیں کھاتا۔ 

دودھ دینے کے دورانیے میں 70 سے 140 دنوں کی غذائی ضروریات۔

اگلے دس ہفتوں میں جانور زیادہ کھاتا ہے۔ اور اس کی دودھ کی پیداوار میں آہستہ آہستہ کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ونڈے کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ اسی دوران چونکہ جانور نے دوبارہ حاملہ بھی ہونا ہے۔ لہذا منرلز اور نمکیات کا مکسچر روزانہ سو سے دو سو گرام لازمی خوراک کا جزو بنائیں۔
مویشی کی خوراک کا خاص خیال رکھ کر آپ نہ صرف جانور کی بہتر صحت، بیماریوں سے حفاظت ،یعنی اپنی سرمایہ کاری کی حفاظت کریں گے۔ بلکہ اچھی خوراک کے نتیجے میں دودھ کی زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کریں گے۔ اور زیادہ منافع بھی کما سکیں گے۔ لہذا دی گئی ہدایات پہ عمل آپ کے ڈیری فارم کی کامیابی کا باعث بنے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here