Turmeric Business Idea In Pakistan | Small business

0
82

آج ہم جو بزنس آئیڈیا بیان کر رہے ہیں۔ وہ ہے ہلدی کا کاروبار ۔ جسے آپ لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے سے شروع کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ زیادہ بڑے پیمانے پر یہی کام شروع کرنا چاہتے ہیں تو بھی کوئی روک یا قباحت نہیں۔

Turmeric Business idea: ImagePixabay

کاشتکاری؛ 

ہلدی کی کاشت کا جو سب سے موزوں وقت ہے، وہ 15 مارچ سے 15 اپریل تک سب سے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ اور اس کی کٹائی تقریبا جنوری فروری میں ہوتی ہے۔ یعنی 9 سے 10 مہینے اسکا ٹائم ہوتا ہے۔ سمجھ لیں کہ اس کی فصل پورا سال زمین گھیرے رکھتی ہے۔ لیکن ہم آج یہاں اس کی کاشت کے بارے میں بات نہیں کریں گےم بلکہ ہمارا مقصد ہے، ایک لائحہ عمل بیان کرنا کہ۔ کس طرح آپ اس کو خرید کر، پسوا کر مارکیٹ میں سیل کر سکتے ہیں۔ کس ریٹ میں آپ کو ملے گیم اس کو پسوانے کا کیا طریقہ کار ہے۔ اور کس حد تک منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے ۔

پہلا طریقہ؛ 

سال 2018 میں، جو ابھی گزرا ہے۔ ہلدی کا ریٹ، 800 سے 900 روپے فی من گیلی ہلدی کا ریٹ تھا۔ اس حساب سے اگر آپ سو من گیلی ہلدی لے لیتے ہیں ۔ تو یہ آپ کو 80 سے 90 ہزار روپے کی خرید میں پڑتی ہے۔
آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو سرسری طور پہ وہ اضلاع بتا دوں ۔ جہاں پر یہ ہلدی کاشت کی جاتی ہے۔ ویسے تو بہت سے علاقے ہیں۔ لیکن قابل ذکر اضلاع ( پنجاب میں) اوکاڑہ، قصور سیالکوٹ اور لاہور ہیں۔ اگر ہم خیبر پختون خواہ کی بات کریں۔ تو مردان، بنوں، ہری پور،  اور اگر سندھ کی بات کریں، تو میرپور خاص اور ضلع سانگھڑ ۔ یہ دو مشہور اضلاع ہیں۔ جہاں ہلدی کی کاشت کی جاتی ہے۔ بلوچستان کا مجھے کچھ خاص آئیڈیا نہیں ہو سکا۔ کہ وہاں پر یہ کاشت ہوتی ہے کہ نہیں۔ اور اگر ہوتی ہے تو کن خاص علاقوں میں ہوتی ہے۔

یہ وہ تین صوبوں کے قابل ذکر اضلاع تھے۔ جہاں اس کی پیداوار کافی ہوتی ہے۔ اور اگر خریدنے کی بات کریں تو یہ وقت ( جنوری فروری) اس کی خریداری کیلئے بہترین وقت ہے۔ کیونکہ آج کل اس کی کٹائی ہو رہی ہے۔ لہذا با آسانی اور بہترین ریٹ پر ملے گی۔
اب آگے بڑھتے ہیں۔ آپ نے گیلی ہلدی خریدنی ہے۔ اور اس کے بعد اس کو پکی جگہ پہ دھوپ میں خشک کرنا ہے۔ خشک کرنے کے بعد اس کا وزن 25 فیصد تک رہ جائے گا۔ یعنی پچھتر فیصد وزن گیلی ہلدی میں سے بخارات بن کر اڑ جائے گا۔ مثال کے طور پہ اگر آپ نے 100 من ہلدی خریدی تھی ۔ تو خشک کرنے کے بعد باقی آپ کے پاس 25 من تک خشک ہلدی بچ جائے گی۔ لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں ۔ کیونکہ خشک ہونے کے بعد اس کا ریٹ بھی 4 گنا بڑھ جاتا ہے۔  اگر آپ جلدی جان چھڑانا چاہتے ہیں ۔ تو خشک کرنے کے بعد بیچ دیں۔ آپ کو 20 سے 25 ہزار تک کا منافع حاصل ہو جائے گا۔ لیکن اگر آپ اس سے زیادہ منافع کمانا چاہتے ہیں۔ تو آپ کو اس پہ مزید محنت کرنی ہو گی۔ اس کیلئے یہ کرنا ہو گا۔ کہ آپ اس کو پتھروں والی چکی پہ پسوا لیں۔ اور پاؤڈر بنا کر فروخت کریں۔ اس سے یہ اور مہنگی سیل ہو گی۔

دوسرا طریقہ؛

اب پسوانے کے طریقے کی طرف آتے ہیں۔ آپ نے اس کو ایسے ہی اٹھا کر نہیں پسوا دینا۔ بلکہ اس میں چند مزید اہم باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔  سب سے پہلا کام آپ یہ کریں گے۔ کہ اس کو دھوئیں گے۔  دھونے کا طریقہ یہ ہو گا کہ آپ اس کو پانی میں دھوئیں گے۔ اس کے بعد خشک کر کے آپ اس کا چھلکا اتاریں گے۔ چھلکا اتر جانے کے بعد آپ اس کو پھر سے پانی میں بوائل کریں گے۔ پانی میں بوائل کرنے کے بعد آپ پھر سے اسے دھوپ لگوا کر خشک کریں گے۔ خشک کرنے کے بعد آپ اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے، پھر اسے پسوا سکتے ہیں۔

پسوانے کے بعد جو ہلدی کا ریٹ ہوتا ہے ۔ وہ تقریبا چھ ہزار سے 6500 تک ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات 7000 روپے فی من تک بھی اس کا ریٹ چلا جاتا ہے۔ اگر خوش قسمتی سے آپ کو 7000 فی من کا ریٹ مل جاتا ہے تو یہ پسی ہوئی ہلدی آپ 1 لاکھ 50 ہزار سے 1 لاکھ 70 ہزار کے درمیان تک فروخت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔  اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے 80 ہزار سے 1 لاکھ تک کی انویسٹمنٹ کی اور چند ہفتوں میں آپ کو 50 ہزار سے 70 ہزار تک کا منافع مل گیا۔

اس میں سارا منافع آپ کو آپ کی محنت پہ ملنا ہے۔ چاہے آپ 100 من پہ محنت کریں۔ یا زیادہ انویسٹمنٹ کر کے 500 من تک خریدیں۔ اور اسے اسی پراسیس سے گزار کر منڈی میں ہول سیل پہ فروخت کر دیں۔
اگر آپ کو یہ بزنس سمجھ میں آ جاتا ہے۔ اور لگتا ہے کہ آپ یہ کر سکتے ہیں۔ تو آپ اسے مستقل بزنس کے طور پہ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔

تیسرا طریقہ؛

 اب آتے ہیں۔ تیسرے طریقے کی طرف۔ اگر آپ پہلے دو طریقے منتخب کرتے ہیں۔ تو بھی فائدی ہے۔ لیکن اگر آپ اپنے منافع کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ تو ایک طریقہ اور ہے۔ اس سے آپ کی محنت بڑھ جائے گی۔ اور اسی حساب سے محنت کا صلہ بھی۔
سب سے پہلے تو میں آپ کو ذاتی طور پر یہ مشورہ دوں گا کہ آپ اسے ہول سیل مارکیٹ میں ہی جا خر فروخت کریں۔ اس سے آپ کو آپ کا منافع اکٹھا یک مشت مل جائے گا۔ لیکن اگر آپ انتظار برداشت کر سکتے ہیں۔ اور اس کے علاوہ مزید محنت کر کے مزید منافع کمانا چاہتے ہیں۔ تو یہ کریں کہ آپ اس کے پیکٹ بنوائیں۔ اپنا ایک لوگو بنائیں۔ اور اسے مارکیٹ میں چھوٹے پیکٹس میں فروخت کریں۔ 
لیکن یہ کام کرنے سے پہلے چند اہم باتوں کا ضرور خیال رکھیں۔ وہ یہ ہیں کہ آج کل پنجاب فوڈ اتھارٹی کی طرف سے بہت سختی ہو چکی ہے۔ لہذا پیکٹ بنوانے سے بھی پہلے،  آپ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے پاس جائیں۔ ان خو بتائیں کہ آپ ہلدی کا کام کرنا چاہتے ہیں۔ ان کو اپنی ہلدی کے سیمپل دیں۔ اور اجازت نامہ لیں۔ اس کے بعد پیکٹ بنوائیں۔ ورنہ آپ کو لینے کے دینے بھی پڑ سکتے ہیں۔ اور یہ مشورہ صرف پیکٹس میں سیل کرنے کیلئے نہیں ہے۔ یہ سارا آئیڈیا جو میں نے آپ کو دیا ہے۔ اسے اپ چاہے کسی انداز میں بھی کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے پنجاب فوڈ اتھارٹی کے قوانین چیک کر لیں۔ کیونکہ خاص طور پہ مصالحہ جات کے معاملے میں بہت سختی ہے۔
اس کے بعد اگر آپ پیکٹس بنواتے ہیں۔ تو اس کا طریقہ یہ ہو گا۔ کہ آپ پیکٹس بنوائیں گے۔ اس کو پرنٹ کروائیں۔ اپنا برانڈ لکھیں۔ اس کے علاوہ اس پہ مینوفیکچرنگ اور ایکسپائری ڈیٹ لکھنا لازمی ہے۔ 
اس کے علاوہ آپ کو ایک پیکنگ مشین بھی خریدنی پڑے گی۔ جو کہ مزید ڈیڑھ سے پونے دو لاکھ کا خرچ ہے۔ لہذا آپ کا خرچ بڑھتا جائے گا۔ اور اگر آپ اس کام کو مستقل بنیادوں پر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تو یہ خرچ بھی واپس آ ہی جائے گا۔ بصورت دیگر خشک کر کے بیچنے یا پاؤڈر بنا کر ہول سیل میں بیچنے تک ہی رکھیں۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here